بنگلورو:20؍ فروری (ایس اؤ نیوز) ریاست بھر میں جاری حجاب معاملہ سنیچر کو بھی چند کالجوں میں جاری رہا۔ باحجاب لڑکیوں کو لےکر میڈیا ، انتظامیہ وغیرہ میں جہاں بہت سارے مسائل پیدا کئے گئےہیں وہیں چند جگہوں پر انہیں ہراساں کرنےکی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں اور اس میں مزید سختی لاتےہوئے حجاب کو لےکر کلاسوں سے غیر حاضری ہونےوالی باحجاب طالبات کو کالج انتظامیہ کی طرف سے جرمانہ عائد کئے جانے ذرائع نے خبر دی ہے۔
ہاسن کی مہیلا سرکاری ڈگری کالج کے سامنے کالج انتظامیہ نےنوٹس چسپاں کرتےہوئے لکھا ہے کہ یونیفارم کے بغیر کالج میں داخل ہوئے تو 200روپئے جرمانہ اور موبائیل استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے یعنی یونیفارم کے بہانے حجاب پہن نہیں سکتے۔ بیلورکی سرکاری کالج میں حجاب کے بجائے رنگین اوڑھنی پہننے کی اجازت دی گئی ۔ جب کہ رانی بنور میں باحجاب طالبات کو موقع نہیں دیاگیا تو وہ گھر لوٹ گئیں۔
بیلگام کی وجیا پیارا میڈیکل کالج کے سامنے باحجاب طالبات ، حجاب کے ساتھ کالج میں داخلہ کا مطالبہ لےکر احتجا ج پر بیٹھ گئیں۔ کالج انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ نے ان سے گفتگو بھی کی تو بھی لڑکیاں حجاب کے ساتھ داخلے کی منظوری چاہی۔ اس سے قبل حالات مزید ہنگامہ خیز ہوتے حالات معمول پر لوٹنے تک کالج کوغیر معینہ مدت تک چھٹی دی گئی ۔ کوپل ضلع کے گنگاوتی کی سرکاری کالج میں باحجاب طالبات کو کالج میں داخلہ نہیں دیاگیاتو کالج عملہ اور سرپرستوں کے درمیان توتو میں میں ہوئی۔ چتردرگہ میں کلاسوں میں حاضری دینے سےروکے جانے پر لڑکیوں نے پرنسپال کےخلاف ہی شکایت درج کرائی
ہے۔ مڈکیری کی کالج میں بھی تقریباً یہی صورت حال رہی ۔ البتہ یہاں پرنسپال کو قتل کی دھمکی دئیےجانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
میسور علاقےمیں بھی احتجاج جاری رہا تو ہاسن ضلع ارسیکرہ کی سرکاری پی یوکالج میں باحجاب طالبات نےکہاکہ ’’حجاب کا موقع دیں ورنہ ہمیں ٹی سی دیں‘‘۔ وہیں ہاسن کی ڈیمڈ سرکاری سائنس کا لج کے کانویکیشن پروگرام میں چند طالبات حجاب کے ساتھ ہی اسناد حاصل کیں۔ چامراج نگر ضلع کے گنڈولوپیٹے کی گوتم ہائی اسکول کی طالبات باہر ہی بیٹھی تھیں۔ ہنسور مہیلا سرکاری ڈگری کالج میں باحجاب لڑکیوں کےلئے الگ سے کمرہ مختص کیاگیا تھا۔
منگلورو کی کالجوں میں بھی حجاب کو لےکر احتجاج جاری رہا۔ منگلورو ، کاؤور سرکاری پی یوکالج کی باحجاب طالبات نے کلاسوں سے باہر کئےجانے اور لڑکیوں کو ہونے والی تکالیف کو بیان کرتےہوئے کہاکہ اساتذہ بھی ہمارا تعاون نہیں کرنےکا الزام لگایا۔ شرالکوپہ کی کرناٹک پبلک پی یو کالج میں باحجاب 58طالبا ت کو کالج سے سسپنڈ کئےجانےپر طالبات نے کالج کے سامنے ہی پلےکارڈ تھامے احتجاج کیں۔ اس موقع پر پرنسپال نے واضح کیاکہ حجاب پہن کر کالج میں داخل ہونےپر انہیں صرف ڈرایا گیا ہے ، سسپنڈ نہیں کئےجانے کی بات کہی۔